اتوار 19 جولائی 2026 - 20:20
مالک اشتر رضی اللہ عنہ

حوزہ/مالک بن حارث نخعی، المعروف مالک اشتر رضی اللہ عنہ، حضرت امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کے جلیل القدر صحابی، نہایت باوفا رفیق، بے مثال سپہ سالار اور اسلامی تاریخ کے عظیم ترین مجاہدوں میں شمار ہوتے ہیں۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی|

مالک بن حارث نخعی، المعروف مالک اشتر رضی اللہ عنہ، حضرت امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کے جلیل القدر صحابی، نہایت باوفا رفیق، بے مثال سپہ سالار اور اسلامی تاریخ کے عظیم ترین مجاہدوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی پوری زندگی اس حقیقت کی روشن گواہی ہے کہ جب ایمان بصیرت سے مل جائے، وفاداری اخلاص سے جڑ جائے اور شجاعت اطاعتِ حق کے تابع ہو جائے تو ایک ایسا کردار وجود میں آتا ہے جسے صدیوں کا غبار بھی دھندلا نہیں سکتا۔

مالک اشتر کا تعلق یمن کے نامور قبیلۂ مذحج کی شاخ، قبیلۂ نخع سے تھا۔ وہ جسمانی اعتبار سے غیر معمولی قوت کے مالک تھے، لیکن ان کی اصل طاقت ان کے بازو نہیں بلکہ ان کا ایمان تھا۔ وہ بہادر ضرور تھے مگر بے رحم نہیں، دلیر ضرور تھے مگر بے تدبیر نہیں، تلوار کے دھنی ضرور تھے مگر تلوار کو کبھی اپنی خواہشات کا غلام نہیں بنایا۔ ان کے نزدیک جنگ اقتدار کے لیے نہیں بلکہ حق کی سربلندی، عدل کے قیام اور ظلم کے خاتمے کے لیے تھی۔

عہدِ رسالت میں اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے اپنی پوری زندگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین اور اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی محبت و نصرت میں بسر کی۔ حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام سے ان کی وابستگی کسی سیاسی مصلحت یا قبائلی تعلق کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ معرفت، یقین اور حق شناسی کی بنیاد پر تھی۔ وہ جانتے تھے کہ علیؑ کے ساتھ کھڑا ہونا عدل کے ساتھ کھڑا ہونا ہے، اسی لیے حالات جیسے بھی رہے، ان کی وفاداری میں کبھی لغزش پیدا نہ ہوئی۔

جنگِ یرموک میں انہوں نے رومی افواج کے خلاف ایسی بے مثال شجاعت دکھائی کہ دشمن حیران رہ گیا۔ اسی جنگ میں ان کی ایک آنکھ شدید زخمی ہوئی، پلک شق ہو گئی اور اسی نسبت سے وہ “اشتر” کہلائے۔ لیکن یہ زخم ان کی کمزوری نہیں بلکہ ان کی بہادری کا تمغہ بن گیا۔ ایک آنکھ زخمی ہوئی مگر بصیرت پہلے سے زیادہ روشن ہو گئی، چہرے پر زخم آیا مگر عزم فولاد سے زیادہ مضبوط ہو گیا۔

حضرت علی علیہ السلام کے دورِ خلافت میں اگر کسی شخصیت نے عسکری قیادت، سیاسی بصیرت، انتظامی صلاحیت اور غیر متزلزل وفاداری کو ایک ساتھ جمع کیا تو وہ مالک اشتر تھے۔ حضرت علیؑ کو ان پر اس قدر اعتماد تھا کہ جب بھی کوئی نازک مرحلہ پیش آتا، نگاہِ انتخاب انہی پر ٹھہرتی۔ دشمن جانتا تھا کہ جہاں مالک موجود ہوں وہاں صرف ایک سپاہی نہیں بلکہ ایک پوری فوج کی قوت موجود ہے۔

جنگِ جمل اس اعتماد کا پہلا بڑا مظہر تھی۔ جب طلحہ، زبیر اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی قیادت میں بصرہ میں بغاوت برپا ہوئی تو حضرت علی علیہ السلام نے مالک اشتر کو کوفہ بھیجا تاکہ اہلِ کوفہ کو حق کے لشکر کی مدد پر آمادہ کریں۔ مالک نے اپنی حکمت، اخلاص اور اثر انگیز شخصیت سے وہ کام کر دکھایا جو شاید کوئی دوسرا نہ کر سکتا۔ ہزاروں افراد لشکرِ حق میں شامل ہوئے اور تاریخ نے دیکھا کہ یہ لشکر باطل کے مقابلے میں استقامت کے ساتھ کھڑا رہا۔

میدانِ جمل میں مالک اشتر دشمن کی صفوں میں اس طرح داخل ہوتے تھے جیسے موجِ خروشان چٹانوں کو چیرتی ہوئی آگے بڑھتی ہے۔ ان کے سامنے بڑے بڑے نامور جنگجو ٹھہر نہ سکے۔ لیکن جنگ ختم ہوتے ہی ان کے کردار کا دوسرا رخ سامنے آیا۔ نہ انتقام، نہ غرور، نہ فاتحانہ تکبر۔ روایت ہے کہ جنگ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا اونٹ مارا گیا تو مالک نے اس کے بدلے ایک عمدہ اونٹ خرید کر انہیں پیش کیا۔ یہی وہ اخلاق تھا جو علیؑ کے مدرسے نے اپنے سپاہیوں کو سکھایا تھا؛ میدان میں سختی، مگر فتح کے بعد انصاف اور مروت۔

مالک اشتر کے بارے میں ایک غلط فہمی صدیوں سے دہرائی جاتی رہی ہے کہ وہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے قاتلین میں شامل تھے، حالانکہ تحقیق اس دعوے کی تائید نہیں کرتی۔ متعدد تاریخی روایات اس کے برعکس ان کا موقف بیان کرتی ہیں۔

علقمہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے مالک اشتر سے پوچھا:

“آپ تو قتلِ عثمان کو ناپسند کرتے تھے، پھر بصرہ کیوں گئے؟”

مالک نے جواب دیا:

“اس لیے کہ ان لوگوں نے بیعت کی تھی، پھر اسے توڑ دیا، اور ابنِ زبیر وہ تھے جنہوں نے حضرت عائشہ کو خروج پر آمادہ کیا۔”

(تاریخ الطبری، ج 4، ص 520)

حافظ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری (ج 13، ص 57) میں اس روایت کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔

اسی طرح امام ابن ابی شیبہ اپنی مصنف میں صحیح سند کے ساتھ نقل کرتے ہیں کہ جنگِ جمل کے بعد صفین کی تیاری کے موقع پر مالک اشتر نے اپنے قبیلے سے فرمایا:

“اس امت نے اپنے بہترین انسان کو قتل کر ڈالا۔ ہم اہلِ بصرہ سے اس لیے لڑے کہ انہوں نے بیعت توڑ دی تھی، اور اب تم اہلِ شام کی طرف جا رہے ہو جنہوں نے سرے سے بیعت ہی نہیں کی، لہٰذا ہر شخص سوچ لے کہ اپنی تلوار کہاں استعمال کرے۔”

اس روایت کو امام حاکم نے نقل کیا ہے اور حافظ ذہبی نے اسے امام مسلم کی شرط کے مطابق صحیح قرار دیا ہے۔ ان شواہد کی روشنی میں یہ کہنا درست نہیں کہ مالک اشتر کو قطعی طور پر قاتلینِ عثمان میں شمار کر دیا جائے۔ تاریخی اختلافات اپنی جگہ، لیکن صحیح اسناد کی روشنی میں ان کی شخصیت پر الزام عائد کرنا علمی احتیاط کے خلاف ہے۔

جنگِ صفین مالک اشتر کی عسکری زندگی کا نقطۂ عروج تھی۔ وہ دن تاریخ کے عظیم ترین دنوں میں سے ایک تھا۔ ایک طرف حضرت علی علیہ السلام کا لشکر تھا، دوسری طرف شام کی فوج۔ حق اور باطل آمنے سامنے تھے۔ جب جنگ شدت اختیار کر گئی تو حضرت علی علیہ السلام نے لشکر کی قیادت مالک اشتر کے سپرد کی۔

پھر تاریخ نے وہ منظر دیکھا جس کی مثال کم ملتی ہے۔

مالک اشتر بجلی کی طرح دشمن کی صفوں پر ٹوٹ پڑے۔ ایک ایک صف ٹوٹتی گئی، ایک ایک دستہ بکھرتا گیا، اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ معاویہ کے خیمے کے قریب پہنچ گئے۔ فتح صرف چند قدم کے فاصلے پر رہ گئی تھی۔ شام کی فوج میں اضطراب پھیل چکا تھا۔ شکست یقینی دکھائی دے رہی تھی۔

اسی لمحے عمرو بن عاص نے وہ چال چلی جس نے اسلامی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ قرآنِ کریم کو نیزوں پر بلند کر دیا گیا اور آوازیں بلند ہوئیں:

“ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب فیصلہ کرے گی۔”

حضرت علی علیہ السلام فوراً سمجھ گئے کہ یہ قرآن کی اطاعت نہیں بلکہ قرآن کے نام پر دھوکہ ہے۔ آپؑ نے فرمایا کہ یہ لوگ قرآن پر عمل کرنے والے نہیں بلکہ اسے اپنی جان بچانے کے لیے ڈھال بنا رہے ہیں، لیکن لشکر کے ایک گروہ نے حقیقت کو نہ سمجھا۔ انہوں نے حضرت علیؑ ہی کے خیمے کا محاصرہ کر لیا اور اصرار کیا کہ مالک کو فوراً واپس بلایا جائے۔

اس وقت مالک اشتر سے کہا گیا کہ صرف چند لمحے اور دے دیجیے، فتح ہمارے قدم چومنے والی ہے۔

لیکن جب انہیں بتایا گیا کہ امیرالمؤمنین کا حکم ہے، تو اس مردِ وفا نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی فتح کو اپنے امام کے ایک حکم پر قربان کر دیا۔ وہ واپس پلٹ آئے۔

یہی مالک اشتر کی سب سے بڑی عظمت ہے۔

تلوار چلانا آسان ہے، مگر اپنی یقینی کامیابی کو اپنے امام کی اطاعت پر قربان کر دینا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ صفین میں مالک نے صرف دشمن کو شکست دینے کی کوشش نہیں کی، بلکہ اطاعتِ امام کی ایسی مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک اہلِ وفا کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔

صفین کے بعد حضرت علی علیہ السلام نے انہیں نصیبین کا گورنر مقرر فرمایا، پھر مصر جیسے عظیم اسلامی صوبے کی ذمہ داری ان کے سپرد کی۔ اہلِ مصر کے نام اپنے تاریخی فرمان میں حضرت علیؑ نے ان کا تعارف ان الفاظ میں کرایا:

“میں تمہاری طرف اللہ کے ایسے بندے کو بھیج رہا ہوں جو خوف کے وقت نہیں سوتا، خطرات کے وقت دشمن سے نہیں ڈرتا، اور حق کے معاملے میں کبھی کمزور نہیں پڑتا۔”

یہ تعارف کسی عام انسان کا نہیں بلکہ اس شخصیت کا تھا جسے علیؑ اپنی حکومت کا مضبوط ترین ستون سمجھتے تھے۔

مگر دشمن جانتا تھا کہ اگر مالک مصر پہنچ گئے تو باطل کی تمام امیدیں دم توڑ دیں گی۔ اس لیے مقابلے کی ہمت نہ ہوئی، سازش کا راستہ اختیار کیا گیا۔ قُلزم میں زہر ملا شہد پیش کیا گیا، اور اسلام کا یہ عظیم سپاہی میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ دشمن کی مکاری کا شکار ہو کر جامِ شہادت نوش کر گیا۔

جب شہادت کی خبر کوفہ پہنچی تو حضرت علی علیہ السلام پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ آپؑ منبر پر تشریف لائے اور فرمایا:

“مالک! اور مالک کیا تھا؟ خدا کی قسم! اگر وہ پہاڑ ہوتا تو بلند ترین پہاڑ ہوتا، اور اگر وہ چٹان ہوتا تو ایسی سخت چٹان ہوتا کہ نہ کوئی سوار اس کی چوٹی تک پہنچ سکتا اور نہ کوئی پرندہ اس کی بلندی تک پرواز کر سکتا۔”

ایک اور موقع پر فرمایا:

“خدا مالک پر اپنی رحمت نازل فرمائے، وہ میرے لیے ویسے ہی تھا جیسے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے لیے تھا۔”

یہ وہ سندِ افتخار ہے جو دنیا کا کوئی مؤرخ نہیں دے سکتا، کیونکہ یہ الفاظ خود امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کی زبانِ مبارک سے ادا ہوئے۔

آج صدیوں بعد بھی مالک اشتر کا نام لیا جاتا ہے تو صرف ایک سپہ سالار یاد نہیں آتا، بلکہ وفا کا ایک عہد، شجاعت کی ایک تاریخ، اطاعت کی ایک مثال، عدل کا ایک محافظ اور علیؑ کا ایک ایسا جاں نثار سامنے آ جاتا ہے جس نے اپنی پوری زندگی حق کے لیے وقف کر دی۔

ایسے کردار وقت کے ساتھ پرانے نہیں ہوتے۔ ان پر اعتراضات کے غبار ضرور ڈالے جا سکتے ہیں، مگر ان کی عظمت کو مٹایا نہیں جا سکتا۔ کیونکہ جن لوگوں کی گواہی ان کے امام نے دی ہو، جن کے کردار کی تصدیق ان کی قربانیوں نے کی ہو، اور جن کی وفاداری پر تاریخ گواہ ہو، ان کے نام ہمیشہ عزت، احترام اور محبت کے ساتھ زندہ رہتے ہیں۔

مالک اشتر کا نام بھی انہی زندہ و جاوید ناموں میں سے ایک ہے؛ ایک ایسا نام جو ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ایمان صرف عقیدہ نہیں، وفاداری صرف نعرہ نہیں، شجاعت صرف تلوار نہیں، بلکہ حق کو پہچان کر اس پر آخر دم تک ثابت قدم رہنے کا نام ہے۔ یہی مالک اشتر کی حقیقی میراث ہے، اور یہی ان کی دائمی عظمت۔

  • انسانیت کا قاتل!

    انسانیت کا قاتل!

    حوزہ/آج اگر دنیا کے نقشے پر بہنے والے خون، راکھ بنتے شہروں، اجڑتی بستیوں، یتیم بچوں، بے آسرا ماؤں اور کروڑوں انسانوں کی آہوں کا محاسبہ کیا جائے تو ایک…

  • خطابت کا معیار!

    خطابت کا معیار!

    حوزہ/ خطابت صرف بولنے کا نام نہیں، دلوں کو جگانے کا فن ہے۔ خطیب کی عظمت اس کی آواز کی بلندی سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ اس بات سے کہ اس کے الفاظ کتنی گہرائی…

  • اگر جنگ آخری حد تک پہنچ جائے!

    اگر جنگ آخری حد تک پہنچ جائے!

    حوزہ/جنگوں کا فیصلہ ہمیشہ میدانِ جنگ میں نہیں ہوتا۔ بعض اوقات اصل معرکہ اس بات کا ہوتا ہے کہ کون اپنی معیشت، بنیادی ڈھانچے، توانائی، مواصلات اور قومی حوصلے…

  • لَا تَمْحُوا ذِكْرَنَا…؛ تم ہمارا ذکر کبھی مٹا نہیں سکو گے!

    لَا تَمْحُوا ذِكْرَنَا…؛ تم ہمارا ذکر کبھی مٹا نہیں سکو گے!

    حوزہ/تاریخ میں ثبت شدہ بعض جملے صرف الفاظ نہیں ہوتے، وہ زمانوں کا فیصلہ ہوتے ہیں۔ وہ کسی ایک نشست کے لیے نہیں کہے جاتے بلکہ آنے والی صدیوں کے ضمیر کو جگانے…

  • شب بیداری یا شبِ غفلت؟

    شب بیداری یا شبِ غفلت؟

    حوزہ/کربلا صرف ایک سانحہ نہیں، ایک مکتب ہے۔ اور مکتب میں صرف رونا نہیں سکھایا جاتا، سوچنا بھی سکھایا جاتا ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے امت کو آنسوؤں کی…

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha